نئی دہلی،8؍اکتوبر (ایس و نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )بی جے پی صدر امت شاہ کیرالہ میں ہو رہے سیاسی تشدد کے لئے سی پی ایم پر خوب گرجے، انہوں نے آج کہا کہ تشدد کی سیاست بائیں کے مزاج میں شامل ہے ۔کیرالہ میں بائیں بازو کی تشدد کی سیاست کو واشگاف کرنے کے لیے بی جے پی کی مہم ’’ جن سرکھشا یاترا‘‘ کے دہلی یونٹ سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈرانے دھمکانے کی کوئی بھی طاقت لیفٹ برسراقتدار ریاست میں کمل (بی جے پی انتخابی علامت) کھلنے سے روک نہیں سکتی ۔انہوں نے کیرل کے وزیر اعلی، پنارائی ویجن کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں الزام لگایا گیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کارکنوں کو اپنے آبائی ضلع میں قتل کروایا ہے ۔ شاہ نے کہا: جب سے بائیں بازوکیرل میں اقتدار پر قبضہ کیا ہے اس وقت سے بی جے پی اور آر ایس ایس کے کئی کارکنان ہلاک ہو چکے ہیں، ان کی ہلاکت بہت شرمناک انداز میں ہوئی ہے ۔ لاشوں کو ٹکڑوں میں کاٹا گیا ہے ۔ جو لوگ بی جے پی کی حمایت کرتے ہیں اس پر اپنی طاقت کا اظہا رکرکے ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی یہی انجام ہوگا ؛ لیکن پر وہ ( لیفٹ ) جتنی تشدد کی سیاست کا گندا کھیل کھیلے گی کمل اتنا ہی بہتر کھلے گا ۔اس کے علاوہ شاہ کی قیادت میں مشرقی دہلی کے کناٹ پلیس سے گول مارکیٹ علاقے میں سی پی ایم کے ہیڈ کوارٹر تک ایک جلوس بھی نکالا گیا۔ دہلی کے بی جے پی صدر منوج تیواری، مرکزی وزیر الفونس تھامن اور پارٹی کے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اس جلوس میں شامل تھے۔شاہ نے کیرالہ کے کانپور ضلع میں تین اکتوبر سے ’ جن سرکھشا یاترا‘ کا آغاز کیا تھا جس کا اختتام 17 اکتوبر کوکیرلاکے ضلع تری وندرم میں ہوگا ۔ بی جے پی صدر جس تشدد کی سیاست کے خاتمہ کی بات کر رہے ہیں شاید وہ بھول رہے ہیں کہ الہ آباد کے مؤآئمہ میں بی ایس پی کے لیڈر محمد سمیع جن کاقتل دن دہاڑے کر دیا گیا ان کے قتل کے پس پردہ حقائق کی تفتیش تا ہنوز مکمل نہ ہوسکی ہے جب کہ اس قتل کے پیچھے علاقہ کے دبنگ بھاجپا لیڈرکے کردار کاشبہ ظاہر کیا جا رہا ہے ، تاہم مقتول لیڈر کے قتل کو چھ سے سات ماہ کا عرصہ گذر چکا ہے ۔ اس کے علاوہ کئی ایسے واقعات ہیں جن سے تشدد کی سیاست کا پتہ چلتا ہے ؛ لیکن ان مبینہ واقعات کو’’ ٹھنڈے بستے ‘‘ میں ڈال دیا گیاہے اور نفرت کی سیاست کی نئی پود لگائی جا رہی ہے ۔